نئی دہلی،4؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍ایجنسی) کانگریس صدر راہل گاندھی نے رافیل جنگی طیارہ سودے کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی پر اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان طیاروں کا کام ایسی کمپنی کو دیا گیا جو بڑے قرض میں ڈوبی ہوئی ہے اور جس کے پاس دفاعی شعبے میں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔
راہل گاندھی نے بدھ کے روز اپنے ٹوئٹ میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک کا سب سے بڑا دفاعی سودا کرنے میں کمال کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ پہلا یہ کہ وہ 45 ہزار کروڑ کا قرض دار ہو، دوسرا ، دوسروں کا پیسہ دباکر بیٹھا ہو اور اس کے ملک سے باہر نہ جانے کی درخواست سپریم کورٹ سے کی گئی ہو، تیسرا، وزیراعظم انہیں ’بھائی‘ کہتے ہوں، بھلے ہی ٹھیکہ حاصل کرنے والے کے پاس کوئی تجربہ نہ ہو‘‘۔
کانگریس صدر نے اس کے علاوہ ایک خبر بھی پوسٹ کی جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ سویڈن کی ٹیلی کام آلات بنانے والی کمپنی ایرکشن نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرکے درخواست کی ہے کہ غیر قانونی طریقے سے اس کے 550 کروڑ روپے دبائے بیٹھے انل امبانی اور ان کی کمپنی کے دو سینئر افسران کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
اس دوران کانگریس کے مواصلاتی شعبہ کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں رافیل سے متعلق ایئر چیف بی ایس دھنووا کے بیان کو صحیح قرار دیا اور کہا کہ اسی ضرورت کے تحت ان طیاروں کی خریداری کا سابقہ یو اپی اے حکومت نے فیصلہ لیا تھا۔ ایئر چیف نے کہا کہ رافیل جنگی طیارے ہندوستانی فوج کی طاقت میں اضافہ کریں گے اور یہ جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کا منظر بھی تبدیل کر دیں گے۔
ایک دیگر سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ جب رافیل سودا طے کیا گیا تھا اس وقت دھنووا، ایئر چیف مارشل نہیں تھے۔ وہ طیارے خریدنے والی کمیٹی کے رکن بھی نہیں تھے اس لئے اس سودے پر ان سے تنازع کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال سودے میں ہوئے گھپلے کا ہے اور مودی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔